*```بوقت شام سورج سے حکومت چھین لیتا ھے```*
*```وہ صبحوں میں ستاروں سے قیادت چھین لیتا ھے`
*```قرینے سیکھ لو اس کی زمیں پہ چلنے پھر نے کے
*```تکبرکرنے والوں سے وہ دولت چھین لیتا ھے```*
*```ہراک دانے میں اس کے فیض کی معجزہ نمائی ھے
*```نوالوں سےبھی ناقدروں وہ لذت چھین لیتاھے`
*```بڑی مشکل سے ملتی ہےیہ صفت نیک نامی کی
*```ذراساڈگمگاجاؤ توعزت چھین لیتا ھے```*
*```کبھی کشتی بچالیتا ھے طوفانوں کےنرغوں سے
*```کبھی ساحل پرتیراکوں سے ھمت چھین لیتا ھے
*```اس کے عدل پر قائم ھے ہر تاریخ انسانی```*
*```وہ کم ظرفوں سے ایوان حکومت چھین لیتاھے
*```سبق سیکھو شمیم تاریخ ہجرت کی شہادت سے
*```وہ اکثر آنکھ والوں سے بصارت چھین لیتا ھے...
0 comments:
Post a Comment